جبھی تو ہم اکیلے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفا میں ہم اصولوں پر
کبھی سودا نہیں کرتے
ضرورت کو
محبت کے سہانے لفظ پہنا کر
وفاداری کی سرحد پر
نجانے کتنے ہی چہرے
اسی باعث
ہمیں گھیرے ہوئے کتنے جھمیلے ہیں
جبھی تو ہم اکیلے ہیں
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی... -
فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ
اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے... -
حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں
ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار...
