جبھی تو ہم اکیلے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفا میں ہم اصولوں پر
کبھی سودا نہیں کرتے
ضرورت کو
محبت کے سہانے لفظ پہنا کر
وفاداری کی سرحد پر
نجانے کتنے ہی چہرے
اسی باعث
ہمیں گھیرے ہوئے کتنے جھمیلے ہیں
جبھی تو ہم اکیلے ہیں
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ بلاوا
میں نے ساری عمر کسی مندر میں قدم نہیں رکھا لیکن جب سے تیری دعا میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ نک نیم
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ جدائی کی پہلی رات
آنکھ بوجھل ہے مگر نیند نہیں آتی ہے میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں...
